اسلامک ریسرچ فورم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اسلامک ریسرچ فورم شعبہ علوم اسلامیہ ، جامعہ سرگودھا میں خوش آمدید۔
ازراہ کرم آپ سب سے پہلے فورم پر اپنی رجسٹریشن کا اہتمام کریں تاکہ فورم کے تمام گوشوں تک آپ کی رسائی ہوسکے۔ شکریہ

تحقیقی عمل میں خاکے کی اہمیت

Go down

تحقیقی عمل میں خاکے کی اہمیت

Post  عبدالحئی عابد on Tue Nov 30, 2010 8:58 am

تحقیقی عمل میں خاکے کی اہمیت اورنمونے کے خاکے کے اوصاف

مقالہ نگار:عبد الحئی عابد
نگران مقالہ:ڈاکٹر عبدالرشید رحمت ،استاد شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ سرگودھا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابتدائیہ

سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے، میر ی تمام تر کوتاہیوں اور خامیوں کے باوجود، ایک بار پھرمشفق ، محنتی اور تحقیق و تجسس کی حوصلہ افزائی کرنے والے اساتذہ کے زیر سایہ تعلیم و تحقیق کاموقع عطا کیا ہے ۔ ا س کے بعد استاد محترم ڈاکٹر عبدالرشید رحمت کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے تحقیق کی اہمیت ، اصول تحقیق ،تحقیقی عمل اورطریق کار کی وضاحت اس عمدگی اورتفصیل سے کی کہ ہر موضوع اپنی اہمیت کے ساتھ، مکمل شکل میں ،ذہن میں واضح ہو گیا۔چنانچہ میں نے ضرورت محسوس کی کہ ان ساری معلومات کو تحریری شکل میں لایا جائے تاکہ اپنے ذہن سے محو ہونے کی صورت میں دوبارہ حوالے کے لیے موجود ہوں۔اور ساتھ ہی نئے طلباء یا محققین کے لیے بھی سود مند ثابت ہوں۔ اس مقصد کے لیے میں نے تحقیق کے عمل میں خاکے کی ضرورت و اہمیت کومنتخب کرتے ہوئے اس کو اپنی کلاس میں تفویض کردہ اسائنمنٹ کے طور پرتیار کرنے کا ارادہ کیاہے۔
یہ اسائنمنٹ ،زیادہ تر استاد محترم کے اسباق ہی سے اخذ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے
حتیٰ الوسع دستیاب کتب اور مضامین سے بھی استفادہ کیا ہے جن کی فہرست مقالے کے آخر میں دی گئی ہے۔
اس میں میں نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ تحقیق کے عمل میں خاکے کی اہمیت اور ایک بہترین خاکے کے اوصاف بیان کر سکوں۔ چونکہ یہ ایک مبتدی کی کاوش ہے اس لیے اس میںجو کچھ اچھا ہے وہ استاد محترم کی محنت اور کوشش ہے اور جو خامی نظر آئے وہ میری کم علمی اور سہولت پسندی سے منسوب کی جائے۔

خاکہ کا مفہوم:
ـ خاکہ اردو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب’ بنیادی نقشہ‘ یا ’تصوراتی ڈھانچہ‘ ہے۔ انگریزی زبان میں اس کے لیے لفظ Synopsis استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دو الفاظ ’Syn ‘ اور ’Opsis ‘سے مرکب ہے۔’Syn‘ کامطلب ’ایک ساتھ‘ ، ’یکجا‘ اور ’Opsis ‘کا مطلب ’دیکھنا‘ہے۔یعنی کسی چیز کو ایک ہی جگہ مجموعی طور پر دیکھنا۔اس کے لیے لفظ
’’ Out Line‘‘بھی استعمال کیا جاتا ہے۔عربی زبان میں اس کے لیے ’خطۃ‘ یا’ خطۃ البحث‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔جو کہ خط،یخط سے ہے یعنی لکیریں کھینچنا،لکھنا وغیرہ۔عربی لغت ’’لسان العرب‘‘ میںہے: الخط: طریقۃ مستطیلۃ فی شیئ۔(۱) ’’خط کے معنیٰ کسی چیز میں سیدھی لکیر کے ہیں۔‘‘ معنی کی تائید میں مولف نے درج ذیل شعر
پیش کیا ہے:
فاصبحت بعد، خط ، بھجتہا
کان قفرا ، رسومھا ، قلما(۲)
’’وہ اپنی خوبصورتی کے بعد ویران ہوگئی، گویا کہ ایک قلم نے اس کی لکیریں کھینچی تھیں۔‘‘
خاکہ، دراصل کسی عمارت، منصوبے،کتاب یا مقالے کا ابتدائی تصوراتی ہیولا یا نقشہ ہے جس پر ساری عمارت تعمیر کی جاتی ہے یا تحقیق و تفتیش کی جاتی ہے۔اے۔جے۔راتھ نے خاکے کامفہوم اس طرح سے بیان کیا ہے:
"An outline is simply an orderly plan in writing, division and arrangement of ideas. Its principal function is to indicate the relationship of ideas to each other." (3)

’’خاکہ سادہ طریقے سے لکھنے کی منصوبہ بندی، مختلف تصورات کی تقسیم اور ترتیب کا نام ہے۔ اور
اس کاخصوصی مقصدمختلف تصورات کے مابین، باہمی رشتے اور تعلق کو ظاہر کرنا ہے۔‘‘
تحقیق میں خاکہ کی اہمیت:

تحقیق کے عمل میں خاکہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔یہ اساس تحقیق بھی ہے اور محقق کے لیے امکانی منزل کا درجہ بھی
رکھتا ہے۔یہ کوئی بند ساخت نہیں ہے کہ جس سے ذرا براہر انحراف جائز نہ ہو، بلکہ یہ ایک نموپزیر اکائی کی حیثیت
رکھتا ہے جس میں مقاصد تحقیق کے مطابق جب نئی چیزیں سامنے آتی ہیں تو اس میں رد و بدل کیا جا سکتاہے۔خاکہ ،دراصل مبتدی کی کاوش ہوتا ہے جو تحقیق کے بحرذخار میں غوطہ لگانے کے ابتدائی مراحل طے کر رہاہوتا ہے۔ تحقیق کی حدود کا قبل از وقت مکمل طور پرتعین نہیں کیا جا سکتا ۔اس لیے خاکہ اپنی تیا ری کے ابتدائی مراحل تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس میں دوران تحقیق اضافہ یا کمی ہو سکتی ہے۔ البتہ، کسی بنیادی تبدیلی یا انحراف سے گریز کرنا چاہیے۔ رشید حسن خان لکھتے ہیں:
’’تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔ نئے واقعات کا علم ہوتا رہے گا، کیونکہ ذرائع معلومات میں اضافہ ہوتارہتا ہے ۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سی حقیقت کتنے پردوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اکثر صورتوں میںیہ ہوتا ہے کہ حجابات بالتدریج اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں اصلیت کا تعین اس وقت تک حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس سے نئی معلومات کے امکانات کی نفی نہیں ہو سکتی۔‘‘ (۱)
اگرچہ خاکہ جمع شدہ مواد کے ابتدائی مطالعہ کے بعد بنانا چاہیے، کیونکہ مطالعہ کے بغیرموضوع کی وسعت اور اس کی حدود کا تعین غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔لیکن پاکستانی جامعات کے کچھ قوانین کے باعث یہاں خاکہ پہلے تیار کیا جاتا ہے۔ خاکے کی اہمیت ہر جگہ مسلم ہے لیکن پاکستانی جامعات میںیہ کچھ زیا دہ ہی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں جامعات کے ذمہ داران نے عمدا ًیا سہوا ً کچھ ایسے خود ساختہ قوانین تیار رکھے ہیںجن کا مقصد بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ تحقیق اور محققین کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ان قوانین میں سر فہرست خاکہ ہے۔ یہاں تحقیق کے لیے موضوع اور اس کے لیے متعین خاکے کی بورڈ آف سٹڈیز سے منظوری لینا ہوتی ہے۔وہا ں سے منظور ہونے کے بعد اگلے مرحلے میں خاکہ ایڈوانس بورڈ آف سٹڈیز کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ یہاں اس کا باریک بینی سے جائزہ لے کر باقاعدہ کا م کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔لہٰذا پاکستانی محقق،جواعلیٰ ڈگری کے حصول کے لیے مقالہ لکھنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ موضوع کے متعلق ابتدائی معلومات زیادہ محنت اور توجہ سے حاصل کرے اور ایسا جامع خاکہ تیا ر کرے کہ اس سے انحراف کی نوبت اول تو آہی نہ سکے اور اگر آئے تو بہت کم ہو۔
اسلامی نقطہء نظر سے بھی یہ بات بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ آدمی اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں منصوبہ بندی ضرور کرے۔ اس کے ذہن میں اپنی زندگی بسر کرنے کا کوئی نہ کوئی خاکہ یا مقصد کا تعین ضرور ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا
فرمان ہے:
’’وَلتَنظر نَفس مَا قَدمَت لغَد۔‘‘ (سورۃ الحشر ۵۹:۱۸)
’’ تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا تیاری کی ہے۔‘‘
اسلامی تعلیمات میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کہ انسان، ایسے ہی، فضو ل یا بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔ اس کی پیدایش کے پس پشت بھی کچھ مقاصد ہیں جن کا پورا کرنا اس کی ذمہ داری ہے ۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اَفَحَسِبتم اَنما خَلَقنٰٰکم عَبَثا۔‘‘ (سورۃ المومن ۲۳:۱۱۵)
’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں فضول ہی پیداکیا ہے۔‘‘
یعنی اللہ نے انسان کوایک سوچے سمجھے پروگرام کے تحت تخلیق کیا ہے ۔اس کی زندگی کا ایک متعین مقصد ہے ۔اللہ نے اس کے لیے زندگی گزارنے کا ایک واضح خاکہ تیار کر دیا ہے، جس سے انحراف کی صورت میں وہ سزا کا مستحق ٹھہرتاہے ۔ دوسری طرف اپنی زندگی کے خاکے میں اللہ کا رنگ بھرنے کی صورت میں انعام و اکرام اور رضائے الٰہی کا سزاوار ہو تا ہے:
’’صِبغَۃَ اللہِ وَ مَن اَحسَن مِنَ اللہِ صِبغَۃ۔‘‘ (سورۃ البقرۃ ۲:۱۳۸)
’’ اللہ کا رنگ اختیار کرو۔اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟‘‘
اس لیے تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں محقق کو بھی اپنی راہیں متعین کر کے ان پر اپنا کا م شروع کرنا چاہیے۔
موضوع کا انتحاب:
محقق کے لیے سب سے پہلا اور سب سے اہم کا م موضوع کا انتخاب ہے۔ اسے اپنی ذاتی لگن اور شوق کو مد نظر رکھتے ہوئے، اور اپنی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے ، ایسا موضوع منتخب کرنا چاہیے جس پر تحقیق اہل علم یا عوام الناس کے لیے مفید ہو۔اور محقق اسے دیے گئے وقت میں مکمل کر سکے۔ اس کے بنیادی اور ثانوی ماخذات تک اس کی رسائی ہو۔اور وہ مطلوبہ مواد اس کی دسترس میں ہو۔موضوع نہ تو اتنا مختصر ہو جو چند صفحات میں سمٹ جائے اور نہ اتنا طویل ہو کہ سمیٹتے سمیٹتے سالوں گزر جائیں۔موضوع کے انتخاب میں محقق کو درج ذیل
امور کا خاص خیال رکھنا چاہیے:
۱۔ موضوع اچھوتا ہو۔افکار میں ندرت ہو اوروہ کسی طرح بھی معاشرے اور علوم و فنون کے شائقین کے لیے مفیدہو۔
۲۔ اور دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے متعلق ہو۔
۳۔ اس موضوع پر تحقیق کی واقعی ضرورت ہو اور اس نہج پر کسی نے اس پر کام نہ کیاہو۔ اس مقصد کے لیے محقق کو اندرون ملک اور بیرون ملک، محتلف جامعات میں ہونے والے تحقیقی کا م سے آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔
۴۔ موضوع محقق کو دیے گئے مقرر شدہ وقت میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔
۵۔اس کے لیے درکار مواد باآسانی دستیاب ہو اور محقق کی دسترس میں ہوتاکہ اسے دوسروں کا محتاج نہ ہونا پڑے۔
۶۔ موضوع سے متعلقہ ماہرین فن سے مشاورت اور استفادہ سہولت سے ممکن ہو۔
۷۔ محقق کا طبعی رجحان اس موضوع سے مطابقت رکھتا ہو، تاکہ تحقیق کے پورے عمل میں،شروع سے آخر تک ، اس کی دل چسپی قائم رہے۔اور وہ کسی مرحلے میں اکتاہت یا انضباط کا شکار نہ ہو۔
۸۔ موضوع نہ تو اتنا زیادہ وسیع ہو کہ اس پرتحقیق کرتے کرتے سالوں بیت جائیں اور محقق کے لیے اسے سمیٹنا مشکل ہو جائے، اور نہ اتنا مختصر ہو کہ چند صفحات میں سمٹ جائے۔ ایسے موضوعات جو بہت زیادہ وسیع ہوتے ہیں انھیں کسی تعلیمی ادارے
سے ڈگری حاصل کرنے کے لیے اختیار نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ جامعات کے طلباء کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے جس کے اندر ان کو اپنا مقالہ جمع کرانا ہوتا ہے۔چنانچہ اگر وہ دیے گئے وقت کے اندر اپنی تحقیق جمع نہ کرا سکیں تو ان کی ساری محنت ضائع ہو سکتی ہے۔
۹۔ڈگری کے حصول کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا جائے وہ مناظرانہ اور مروجہ افکار و نظریات سے بہت زیادہ متصادم نہ ہو۔
۱۰۔محقق کو موضوع کے انتخاب سے پہلے اپنی مالی حیثیت اور وسائل کا بھی اندازہ کر لینا چاہیے کہ کیا وہ اس سارے عمل میں استعمال ہونے والی رقم کا انتظام کر سکتا ہے۔
خاکہ کے لوازمات:
۱۔ تحقیق کا طریق کار:
خاکے میں تحقیق کے طریق کا ر کا ذکر بھی کرنا چاہیے۔ محقق کو اپنے ذہن میں اس سارے طریق کا ر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ خاکے میں بھی اس کو بیان کرنا چاہیے کہ وہ کون کون سے موضوعات پر کس ترتیب سے تحقیق کرے گا۔ اس سے خود محقق
کوبھی اندازہ ہو جائے گاکہ وہ اپنے تحقیقی عمل سے کس طرح اور کن طریقوں سے عہدہ برا ہو سکے گا۔عام طور پر مواد یا معلومات جمع کرنے کے تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوال ناموں کے ذریعے، افراد کے مشاہدات کے ذریعےاور ماضی میں جمع کیے گئے مواد کے مطالعے کے ذریعے۔۵]
اس سلسلے میں محقق کو طریق کا ر سے متعلق ضروری تعلیم و تربیت حا صل کر لینی چاہیے۔اسی طرح ریسرچ میں استعمال ہونے والی اور معاون چیزوں، مثلا کیمرہ، ریکارڈنگ کے آلات، کمپیوٹر،وغیرہ کوچلانے میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
۲۔ تحقیق کے امکانی دائرے کا تعین:
محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے امکانی دائرے کا تعین قبل از وقت کر لے تاکہ کسی مرحلے پر بھی تحقیق کا عمل اس کی گرفت سے نہ نکلے۔ اس چیز کو ریسرچ ڈیزائن بھی کہا جاتا ہے۔کوئی مکان بنانے کے لیے اس کا بنیادی نقشہ کسی ماہر تعمیرات سے تیا ر کروایا جاتا ہے ۔ اس نقشے کی تیاری کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کو تعمیراتی مسائل، ضروریات،لوازمات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ ماہر تعمیرات ہر چیز کو تخیل کے مطابق کاغذ پر نقشے کی صورت میں اتارتا ہے ۔وہ مکان کے لیے درکار سامان کی فہرست بنا تا ہے تو مالک مکان اس نقشے کو دیکھ کراور اپنی مالی حیثیت کا اندازہ کر کے،اپنے تصورات و ضروریات کے مطابق اس میں کمی بیشی اور تبدیلی کر کے ایک حتمی ڈیزائن کو منتخب کرتا ہے۔ اس طرح سے تعمیرات کے تمام مراحل اس کی
دسترس میں رہتے ہیں اور کسی مرحلے پر کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ تحقیق پر، بعینہ ، یہی مثال صادق آتی ہے۔محقق کو اپنے خیالات اور تصورات کے مطابق ایک راہ عمل بنا لینی چائیے جس کے مطابق وہ اپنی تحقیقی کا عمل آگے بڑھائے گا۔ ممکن ہے اس کا ذہن بہت طاقت ور ہو اور اس میں بے شمار تصورات موجود ہوں، لیکن ان سب باتوں کو یاد رکھنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔ اس لیے اسے مختلف علامتوں اور نشانات کے ذریعے اپنی تحقیق کے پورے نقشے کو ہر وقت ذہن میں رکھنا
چاہیے۔تحقیق کے سارے عمل میں یہ علامتیں محقق کے کام آئیں گی اور اس کی راہیں آسان ہو جائیں گی۔محقق کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے موضوع کی نوعیت کیا ہے اور اس سلسلے میں کس طرح کی معلومات اور اعداد وشمار درکا ر ہوں گے۔ اسے درکار معلومات کہاں سے اور کن ذرائع سے حاصل ہوگی۔ کیا وہ ذرائع اور وسائل اس کی اپنی دسترس میں ہیں؟ اسے کن کن علاقوں کا سفر کرنا پڑے گا۔ تحقیق کے لیے مطالعے میں کتنا وقت لگے گا۔ اسے اپنی تحقیق کے لیے کتنا ذخیرہ معلومات درکا ر
ہوگا۔ اور حاصل شدہ معلومات اور موادکا کس طرح اور کتنے عرصے میں تجزیہ کیا جائے گا۔
اس طرح سے محقق کو سارے عمل میں آسانی ہوگی اور وہ اضافی پریشانیوں اور کثیر اخراجا ت سے محفوط رہے گا۔ مثلا، اگر محقق پہلے سے تحقیق کے سارے عمل کا تصوراتی خاکہ ذہن میں بنا نے کے بعد اپنی ضروریا ت کی فہرست بنا لے تو اسے یہ طے کرنے میں آسانی ہوگی کہ مجھے فلاں فلاں معلومات کے حصول کے لیے کراچی جاناہے یا فلاں چیز کے لیے
لاہور، تو وہ بار بار کے چکروںاور پریشانی سے محفوظ رہے گا۔
۳۔نظام الاوقات کا تعین:
خاکہ بنانے وقت تمام تحقیقی اور تکنیکی مراحل کے دورانیہ کا اندازہ کر لینا چاہیے۔ اکثر محققین خاکہ کی تیاری کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔سندی تحقیق یاڈگری کے حصول کے لیے کی جانے والی تحقیق کے لیے اوقات کا تعین ازحد ضروری ہے، کیونکہ جامعات میں اس مقصد کے لیے ایک متعین وقت دیا جاتا ہے، اس لیے یہ بات محقق کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسے مقررہ اوقات کے اندر ہی اس مقالے کو جمع کرانا ہے۔ورنہ دوسری صورت میں اس کی یہ ساری تحقیق محض تضیع اوقا ت ہو گی۔اسی طرح غیر سندی تحقیق کے لیے بھی اوقات کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ بعض دفعہ انسان ناگہانی حالات کا شکار ہو جاتا ہے، اور کچھ معاملات اس کی توقعات کے خلاف پیش آ جاتے ہیں ۔چناں چہ محقق کو موضوع کے انتخاب سے لے کر، مواد کے حصول، مطالعہ، تدوین،کتابت، پروف ریڈنگ، جلد بندی وغیر ہ تک کے تمام مراحل کا محتاط طریقے سے اندازہ کر کے اوقات کی تقسیم اس انداز سے کرنی چاہیے کہ ہر کام مخصوص وقت تک مکمل ہوجائے۔ مثلا مولانا شبلی نعمانی سیر ت النبی ﷺ پر اپنا کام مکمل نہ کر سکے ۔ اسی طرح سرسید
احمد خان اپنی تفسیر کو مکمل کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس طرح سے بہت قیمتی اثاثہ اہل علم و تحقیق کے سامنے آنے سے رہ گیا۔
۴۔عمدہ خاکہ کے اوصاف:
۱۔ابتدائیہ:
ابتدائیہ جیسے کہ نام سے ظاہر ہے، کسی مقالے کا دیباچہ ، مقدمہ یا پیش لفظ ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ ترتیب کے لحاظ سے مقالے کے آغاز میں ہوتا ہے، لیکن تحریر کے لحاظ سے مقالے کے آخر میں تحریر کرنا چاہیے۔چونکہ دوران تحقیق بہت سی نئی باتیں اور مسائل سامنے آتے ہیں اس لیے ابتدائیہ میں اس حصے میں محقق کودرج ذیل چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:
۱۔ ابتدائیہ بہت ہی جاندار اور جامع ہونا چاہیے، تاکہ قاری پر پہلا تاثر عمدہ طریقے سے پڑے اور وہ مزید مطالعے کے لیے مجبور ہوجائے۔ اگر موضوع کا تعارف بھونڈا، خشک اور غیرمنطقی ہوگا تو مقالے کا قاری اسے دل چسپی سے نہیں پڑھے گا۔ اس کا اسلوب سادہ ، عام فہم اور دلچسپ ہو۔
ب۔ موضوع کا تعارف اور اس کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔
ج۔موضوع اختیار کرنے کی وجوہات کا ذکر کیا جائے۔
د۔موضوع سے متعلق سابقہ تحقیقات کا جائزہ پیش کیا جائے۔
ہ۔ سابقہ تحقیقات کی تشنگی، اور مزید تحقیق کی ضرورت واضح کی جائے۔
۲۔حسن ترتیب:
خاکہ مختلف تصورات کی تقسیم اور ترتیب کا نام ہے۔ اس میں تمام ابواب کا شروع سے آخر تک ربط وتسلسل ہونا چاہیے۔
۳۔ ابواب کی تقسم:
موضوع سے متعلق تمام ابتدائی معلومات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، ترتیب کے ساتھ ابواب بندی کی جائے۔ مقالے کے تمام عنوانات کی خصوصیات اس کے عنوانات میں بھی ہونی چاہییں، کیونکہ عنوان پورے باب کا علامتی نمائندہ ہوتا ہے۔محقق کو ایک مصور یا بت تراش کی مانند اپنے تخیل میں پوری تحقیق کا ڈیزائن محفوظ رکھنا چاہیے۔ اور پھر اس تصور کو صفحہء قرطاس پر اس طرح سے منتقل کرنا چاہیے کہ ایک پوری تصو یر نگاہو ں کے سامنے آجائے۔ تمام ابواب ایک تسلسل کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مربوط ہوں کہ پوری تحریر یکجا محسوس ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہر باب اپنی جگہ ایک الگ اور مکمل
موضوع بن جائے۔کسی باب کا نام اس میں موجو مواد کی مناسبت سے مقرر کرنا چاہیے، تاکہ باب کا نام پڑھتے ہی اس کے تمام مشمولات کا تصور قاری کے ذہن میں اجاگر ہو جائے۔
۴۔ذیلی ابواب:
خاکہ بنانے وقت موضوع سے متعلق مواد کو جب ابواب میں تقسیم کر کے ترتیب دیا جائے تو موضوع کی مناسبت سے تمام ابواب کے ذیلی حصے یا ذیلی ابواب بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں دوران تحقیق اگر کو ئی اضافہ کرنا پڑے تو وہ آسانی سے ممکن ہو۔
۵۔خلاصہ بحث:
خلاصہء بحث، مقالے کا آخری حصہ اور سارے مقالے اور تحقیق کا جو ہر ہے۔اس کو نہایت احتیاط سے لکھنا چاہیے۔ اس میں محقق اپنی ساری تحقیق کا جائزہ پیش کرتاہے۔ اپنا دعویٰ، اس کا ثبوت اور اس کی تائیدمیں دلائل مختصر اور جامع طریقے سے بیان کرتا ہے۔ اس جائزے کے نتیجے ہی میں تحقیقی عمل کے نتائج کا تعین کیا جاتا ہے۔اسی حصے کو دیکھ کر ممتحن مقالے کے معیارکا جائزہ لیتا ہے اور عام قاری کم از کم وقت میں ساری تحقیق کا خلاصہ جان سکتا ہے۔
اس حصے میں محقق کو، تحقیق کے شروع میں اٹھائے گئے سوالات،مذکورہ موضوع پر تحقیق کی ضرورت،اور تحقیقی عمل کے نتیجے میں حاصل ہو نے والے نتائج پر مختصرجامع اور مدلل تجزیہ پیش کرنا چاہیے۔اگر حاصل شدہ نتائج کی تعداد زیادہ ہو تو انھیں ترتیب وار اس طرح سے بیان کیا جائے کہ ہر نتیجہء پہلے اور آگے والے نتیجے سے منسلک ہو۔اس موضوع پر ہونے والی سابقہ تحقیقات کے ساتھ ربط بھی قائم کیا جائے۔ اس حصے میں ایسی کوئی نئی بات بیان نہ کی جائے جو اس سے پہلے مقالے میں بیان نہ ہوئی ہو۔بلکہ صرف مقالے میں بیان کردہ تفاصیل کا خلاصہ یہاں بیان کیا جائے۔
۶۔ضمیمہ جات:
مقالے میں ضمیمہ جات کا شامل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر دوران تحقیق کچھ نئی چیزیں سامنے آتی ہیں جن کا تعلق خاکے میں

بیان کردہ، دعویٰ جات اور پیش کردہ دلائل سے تو نہیں ہوتا لیکن محقق ان کو سامنے لانا ضروری سمجھتا ہے تو ایسی چیزیں ضمیمہ میں بیان کی جا سکتی ہیں۔
۷۔مصادر و مراجع:
مصادر و مراجع یا کتابیات مقالے کا بہت اہم حصہ ہوتا ہے۔ان سے ایک طرف تونو آموز محقق کے لیے تحقیق کی راہیں آسان ہوتی ہیں اور دوسری طرف وہ اپنی آراء کی تائید میں علوم و فنون کے ماہرین کی آراء سے اقتباس پیش کر کے اپنی تحقیق کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے۔ خاکے کی تیاری کے دوران محقق کوموضوع سے متعلق ممکنہ دستیاب کتب، مقالات، اخبارات،رسائل،لغات،انسائکلو پیڈیاز، ریکارڈز،مخطوطات،یادداشتوں اور خطوط وغیرہ کی ایک عارضی فہرست تیار کر لینی چاہیے۔ چونکہ خاکہ ایک بیج کی حیثیت رکھتاہے جس سے پودا وجود میں آتا ہے۔پھر اس میں سے مزید شاخیں اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب محقق مجوزہ کتب کامطالعہ کرے گا تو اس دوران نئے ماٰخذات و مصادر بھی سامنے
آئیں گے جن کو وہ بعد میں اپنی فہرست میں شامل کرے گا۔
مصادر و مراجع کی اہمیت کے بارے میں ڈاکٹرمعین الدین عقیل لکھتے ہیں:
’’ایک تحقیقی نوعیت کا مقالہ، جو چاہے ضخامت میں کم ہی کیوں نہ ہو، تحقیقی ماٰخذاور مصادر کے بغیر وجود میں نہیں آتا۔ ان ماٰخذ کی نشان دہی کے ذریعے ہی کسی مقالے کو استناد اور معیار حاصل ہوتاہے۔ اس طرح ہر مقالے میں چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو،حوالوں اور استناد کو حاشیوںمیں درج کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ایک فہرست اسناد آخر میں ضرور شامل کرنی
چاہیے۔‘‘۶]
مصادر کی فہرست بنانے اور اس کوتحریر کرنے کے حوالے سے چند ایک باتوں کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے:
مصادر یاکتابیات کا اندراج،جلی حروف میں’مصادر ‘ یا ’ کتابیات‘ کا عنوان دے کر نئے صفحے سے کیا جائے۔
ہمیشہ اصل ماٰخذ کا استعمال کرنا چاہیے۔
ثانوی ماٰخذ بحالت مجبوری استعمال کیے جائیں ، جب اصلی ماٰخذ تک رسائی ناممکن ہو۔
کتب کا اندراج الف بائی ترتیب سے کیا جائے۔
محتلف زبانوں کی کتب کو الگ الگ لکھا جائے۔اگر کتب کی تعداد کم ہو تو اکٹھا بھی لکھ سکتے ہیں۔
زیادہ کتب ہونے کی صورت میں موضوعاتی گروہ بندی کر لی جائے۔
ہر زبان کی گروہ بندی میں پہلے مخطوطات ،پھر کتب، رسائل اور مضامین کا اندراج کیا جائے۔
لغات، انسائیکلو پیڈیاز،کتب ، رسائل، اخبارات اور خطوط وغیرہ کا الگ الگ اندراج کیا جائے۔
اسلامی تحقیق میں مصادر کو ان زمرہ جات کے لحاظ سے درج کیا جائے، مثلا قرآن، حدیث،کتب فقہ،لغات وغیرہ۔
فہرست میں اندراج کے لیے دو مختلف طریقے مستعمل ہیں: ایک بلحاظ مصنف اور دوسرا بلحاظ کتب۔موجودہ زمانے میں اول الذکر طریقہ کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور اکثر محققین اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
مثلا اگر کسی کتاب کو بلحاظ مصنف درج کرنا ہو تو اس طرح سے درج کریں گے:
ا۔گیان چند، ڈاکٹر تحقیق کا فن مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد پاکستان، طبع سوم، ۲۰۰۷۔
اور بلحاظ کتاب درج کرنا ہو تو:
۱۔ تحقیق کا فن، گیان چند ڈاکٹر، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد پاکستان، طبع سوم، ۲۰۰۷۔
اندراج کے دوران سب سے پہلے مصنف کا مشہور نام او ر بعد میں نام کا باقی حصہ اور لقب وغیرہ درج کیا جائے۔سن اشاعت یا مطبع کا نام دستیاب نہ ہونے کی صورت میں سن یا مطبع ندارد لکھا جائے۔ مختلف مواد کو درج ذیل طریقوں کے مطابق درج کیا جائے:
کتب کے لیے:
نام مصنف، نام کتاب،مرتب، مترجم کا نام،ادارہ،مطبع،شہر،سن اشاعت۔
مقالہ جات کے لیے:
نام محقق، نام مقالہ، ڈگری کانام،سن اشاعت،ادارہ، اندراج نمبر ۔
مجموعہ مقالات کے لیے:
مقالہ کے مصنف کا نام، عنوان مقالہ،مجموعہ مقالات کا نام،مدون کا نام،مطبع،شہر،سن اشاعت۔
مخطوطات کے لیے:
نام مصنف ، عنوان،سن کتابت،ملکیت( جہان مخطوطہ موجود ہے)۔
لغات کے لیے:
مولف کا نام ، لغت کا نام، مطبع، سن اشاعت۔
انسائکلو پیڈیا کے لیے:
مقالہ نگار ، عنوان مقالہ، انسائکلو پیڈیا کا نام،مطبع،شہر، سن اشاعت۔
رسائل و جرائد کے لیے:
مقالہ کا مصنف ، عنوان مقالہ،مجلے کا نام،ایڈیٹر کا نام، ادارہ،مطبع،جلد ،شمارہ، مہینہ ،سال۔
خطوط کے لیے:
نام مکتوب نگار، نام مکتوب الیہ، مقام ترسیل،تاریخ۔
انٹرویو کے لیے:
انٹرویو دینے والا، انٹرویو نگار، مقام، تاریخ۔
انگریزی کتب کے لیے:
Author'name, Book, Place/Press,year of printing.

خلاصہ بحث:
اس ساری بحث سے جو گزشتہ صفحات میں کی گئی ہے، راقم کا مقصد یہ ہے کہ خاکہ تحقیق کے عمل میں بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ساری تحقیق کانچوڑ ہے ۔ گزشتہ صفحات میں یہ بتایا گیا ہے کہ خاکہ تحقیق کے عمل میں ایک بیج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر بیج صحیح ہو گا اور جس زمین میں بویا جا رہا ہے اس کی حد بندی، تیاری، فصل کے معاونات کا صحیح استعمال ہوگا توفصل بھی صحیح برامد ہوگی۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوگا تو فصل ٹھیک طریقے سے نہیں ہوگی اور اس پر خرچ کیا گیا سرمایہ، محنت اور وقت ضائع ہو جائے گا۔ تحقیق کا عمل اس کام سے بعینہ مشابہت رکھتا ہے۔ اگر محقق غور و فکر کے ساتھ خاکہ تیار کرے گا اور تحقیق کے تمام مراحل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا لائحہ عمل بنائے گا تو اس کے لیے تحقیق کے تمام مراحل آسان ہو جائیں گے۔اگر چہ بظاہر خاکہ بنانے کا عمل آسان اور معمولی سا محسوس ہوتا ہے ، لیکن ، درحقیقت، یہ پورے مقالے کی جان ہے۔ اسی پر محقق کی آئندہ تحقیق کا انحصار اور دارومدار ہوگا۔ کیونکہ دوران تحقیق ،خاکہ اور تحقیقی میدان کے اندر کوئی نمایاںاور بنیادی تبدیل نہیں کی جا سکتی ، اس لیے ضروری ہے کہ یہ کا م پہلے ہی نہایت حزم و احتیاط اور ذمہ داری سے مکمل کیاجائے، تاکہ آنے والے دنوںمیں مشکلات اور شرمندگی سے بچا جا سکے۔

حواشی

۱۔ لسان العرب ج ۷ ، ص ۲۸۷۔
۲۔ایضا۔ ج۷ ، ص ۲۸۷۔
۳۔گیان چند، ڈاکٹر، تحقیق کا فن( بحوالہ ریسرچ پیپر) مقتدرہ قومی زبان پاکستان، طبع سوم، ۲۰۰۷ ، ص ۱۰۶۔
۴۔ رشید حسن خان، ادبی تحقیق،مسائل اور تجزیہ، نیو ایج پبلشرز،لاہور،۱۹۹۸ئ، ص ۴۲۰۔
۵۔۔ش،اختر،ڈاکٹر، تحقیق کے طریقہء کار، بحوالہ’ Frestenger Kartz‘تاج پریس باری روڈ گیا، انڈیا، سنہ ندارد ، ص۶۵
۶۔۔معین الدین عقیل،ڈاکٹر، اردو تحقیق،صورت حال اور تقاضے،مقتدرہ قومی زبان پاکستان،طبع اول ۲۰۰۸ء ،ص۴۲۰۔

عبدالحئی عابد
Admin

Posts : 21
Join date : 11.11.2010
Location : سرگودھا،پاکستان

View user profile http://islamiat.forumotion.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum