اسلامک ریسرچ فورم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اسلامک ریسرچ فورم شعبہ علوم اسلامیہ ، جامعہ سرگودھا میں خوش آمدید۔
ازراہ کرم آپ سب سے پہلے فورم پر اپنی رجسٹریشن کا اہتمام کریں تاکہ فورم کے تمام گوشوں تک آپ کی رسائی ہوسکے۔ شکریہ

مبادی تدبر قرآن : ایک مطالعہ

Go down

مبادی تدبر قرآن : ایک مطالعہ

Post  عبدالحئی عابد on Tue Dec 07, 2010 6:50 am


مبادی تدبر قرآن! ایک مطالعہ
ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی
ترجما ن القرآن مولانا حمید الدین فراہی کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی کی شخصیت علمی دنیا اور اسلامی حلقوں میں تعارف کی محتاج نہیں، ان کی صلاحیت و لیاقت کے آثار مختلف میدانوں مثلاًخطابت،صحافت،فقہ،حدیث اور تفسیر میں نمایاں ہیںلیکن بعد میں اپنی تمام تر توجہ کا مرکز و محورانہوں نے قرآن کریم کو قرار دیاایک طرف انہوں نے اپنی تصانیف میں قرانیات کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیااور دوسری طرف اپنے استاد گرامی کے بتائے ہوئے تفسیری اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ”تدبرِقرآن“کے نام سے ایک تفسیر لکھی یہ تفسیر اپنے نظریہ نظم قرآن کی رو سے دنیا کی تمام تفاسیر میں ممتاز و منفرد مقام کی حامل ہے یہ تفسیر کن اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے اور اس کے پیچھے کون سے جذبات و ارادے کارفرما ہیں ان کو جاننے کے لیے مولانا کی کتاب مُبادیٴ تدبر قرآن (۱) کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے یہ کتاب ایک طرح سے دیکھا جائے تو تفسیر تدبر قرآن کا مقدمہ ہے۔
یہ کتاب اصلاًمولانا کے مختلف قرآنی مقالات کا مجموعہ ہے، لیکن یہ مقالات اس انداز سے ترتیب دیئے گئے ہیں کہ یہ کتاب کی شکل اختیار کر گئے ہیںاس کے باوجود بھی کچھ مقالات میں تکرار کا توارد موجود ہے اس کتاب سے یہ بات وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جنہیں مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا محمد امین احسن اصلاحی فہم القرآن اور اس کے تفکر و تدبر کے لیے ضروری تصور کرتے تھےاور حدیث کے باب میں فراہی اسکول کا کیا نقطہ نظرہے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ (۲)
یہ کتاب چار مقالات پر مشتمل ہے فہم قرآن کے لئے بعض ابتدائی شرطیں، تدبر قرآن،تیسیر قرآن اور تفسیر کے اصول، ان میں مقالہ تیسیرقرآن بڑی اہمیت کا حامل ہے اس مضمون سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مولانا کی قرآن کریم پر گہری نظرتھی،اس میں تیسیر قرآن کے متعدد پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں جو ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ اپنے معنی و مفہوم اور زبان و بیان کے لحاظ سے آسان ہے اس کی حکمتوں اورشیوں تک رسائی بہت معمولی چیز ہے مولانا نے دلائل کی روشنی میں اس کی تردید کی ہے اور تیسیر قران کا صحیح مفہوم پیش کیا ہے۔
”فہم قرآن“ کے تحت مولانا نے چند شرائط کا ذکر کیا ہے اور یہ شرائط فہم قرآن کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ نماز کے لئے وضو اور طہارت،فہم قرآن کی اولین شرط نیت کی پاکیزگی ہے یعنی وہ قرآن کریم کا مطالعہ اس نیت سے کرے کہ وہ اس کے ذریعہ ہدایت اور فلاح کے راستوں کوپالے گا لیکن ایسے بہت سے حضرات جو اپنی ذاتی اغراض کے تحت قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیںہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض میں کامیابی حاصل کرلیں لیکن ہدایت قرآن سے محروم رہیں گے مولانا فرماتے ہیں قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اورہر آدمی کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ و دیعت کردیا ہے اگر اس داعیہ کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ قرآن مجیدسے بقدر کو شش اور بقدر توفیق الہی فیض پاتا ہے اور اگر اس داعیہ کے علاوہ کسی اور داعیہ کے تحت وہ قرآن کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو ”لکل امرمانوی“کے اصول کے مطابق وہ وہی چیزپاتا ہے۔ (۳) قرآن کریم میں اس کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَ وُ الضَّلَا ٴلَةَ بِالْھُدٰی فَمَاٰ رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُم وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنٍ(سورہ بقرہ:۱۶)
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اختیار کیا گمراہی کو ہدایت کے بدلے تو ان کی یہ تجارت ان کے لئے نفع بخش نہ ہوئی اور وہ ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔
نیت کی پاکیزگی کے بعد دوسری شرط یہ ہے کہ قرآن کریم کوایک برتر کلام اور دنیا کی عظیم کتاب مانا جائے کیونکہ بغیر اس کے اس کی حکمتوں او رخزینوں سے استفادہ ممکن نہیںقرآن کے طالب علم کے ذہن میں یہ چیزپورے وثوق کے ساتھ موجود ہو کہ یہ کتاب ایک عظیم الشان تاریخ کی حامل ہے ایک معجز کلام ہے ایک آسمانی کتاب اور لوح محفوظ سے اترا ہوا کلام ہے یہ سب چیزیں اس لئے ضروری ہیں کہ منکرین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب عرب کے بدوؤں کے لئے اتاری گئی تھی اور موجودہ حالات میں یہ کتاب اپنا کوئی مفہوم نہیں رکھتی اور اس کتاب کے ماننے والوں کا یہ خیال ہے کہ یہ کتاب حرام و حلال کے احکامات پر مبنی ہے اور جب سے فقہ کی تدوین ہو گئی ہے اس کی اہمیت میں اور کمی آگئی ہے اسے صرف تبرک کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں بہت سے لوگ اسے اچھی نصیحتوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں بہت سے لوگ اس کو نزع کی سختیوں کو دور کرنے اور ایصال ثواب کی کتاب سمجھتے ہیں اور بہت سے لوگ اس کودفع بلیات وآفات کا تعویذ سمجھتے ہیں۔ (۴)
فہم قرآن کی چوتھی شرط یہ ہے کہ قرآن کریم کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور اسی کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کوتبدیل کیا جائے،اس نقطہ نظر سے قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے گا تو جگہ جگہ انسانی خواہشات قرآنی تقاضوں سے متصادم ہوتے ہوئے نظر آئیں گی اور انسان کو اپنے مطالبات سے باز آنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گالیکن جس کے اندر استقلال اور پختہ ارادہ ہو گاوہ ضرور اپنے اندر قرآنی تقاضوں کے مطابق تبدیلی لائے گالیکن جوپرعزم نہیں ہے اس کے متعلق مولانا لکھتے ہیں وہ اس خلیج کو پاٹنے کی ہمت نہیں کرسکتا جو اپنے اور قرآن کے درمیان حائل پاتا ہے وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر میں اپنے عقائد و تصورات کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کروں تو مجھے ذہنی اور فکری حیثیت سے نیا جنم لینا پڑے گا۔ (۵)
لیکن جو لوگ مختلف آزمائشوں سے گزر کر بھی قرآنی تقاضوں اور قرآنی راستوں کو نہیں چھوڑتے ہیں اللہ ان کے لئے راہیں ہموار کر دیتا ہے اگر ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا دروازہ اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے اگر ایک زمین اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے تو دوسری سرزمین اس کے لئے آغوش بن جاتی ہے قرآن کریم میں اسی چیز کی طرف یوں اشارہ کیا گیا۔
وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لِنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنٍ
(سورہ عنکبوت۶۹)
اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم ضروران پر اپنی راہیں کھولیں گے اور اللہ خوبیوں کے طالبوں کے ساتھ ہے۔
قرآن کریم سے استفادہ کی چوتھی شرط تدبر ہے قرآن کریم نے تدبر نہ کرنے والوں کو ان لفظوں میں یاد کیا ہے:
اَفَلَا یَتَدَ بَّرُ وْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰیْ قُلُوْبِ اَقْفَا لُھَا
کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہو ئے ہیں۔
صحابہ کرام مستقل قرآن کریم پر غور کرتے اور اجتماعی طور پر قرآن کا مطالعہ کرتے خلفاء راشدین اور بالخصوص حضرت عمراس قسم کے حلقوں اور قرآن کریم کے ماہرین سے برابر دلچسپی لیتے صحابہ کرامصرف تبرک کے نقطہ نظر سے تلاوت نہ کرتے نہ ہی اسے جانکنی کی سختیوں کو آسان کرنے کے لئے پڑھتے اور نہ ہی اسے تعویذ کے طور پر استعمال کرتے۔ (۶)
فہم قرآن کی پانچویں شرط یہ ہے کہ تدبر و تفکر کے وقت بہت سی ایسی مشکلات پیش آئیں گی کہ اسے بد دلی اور قنوطیت کی طرف لے جائیں گیلیکن ان حالات میں اسے دامن صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہیےمولانا فرماتے ہیں کہ اس طرح کی عملی و فکری مشکلوں اور الجھنوں سے نکلنے کا صحیح اور آزمودہ راستہ صرف یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور قرآن مجید پر جما رہے اگر قرآن مجید یاد ہو تو شب کی نمازوں میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھے انشاء اللہ اس کی ساری الجھنیں دور ہو جائیں گی اور حکمت قرآن کے ایسے دروازے اس پر کھل جائیں گے کہ پھر اس کو قرآن حکیم کی ہر مشکل آسان معلوم ہونے لگے گی۔ (۷)
فہم قرآن کی شرائط کے بعد اس کتاب کا دوسرا باب”تدبر قرآن“ہے تدبر قرآن کے لئے کن کن امور کی ضرورت ہوتی ہے وہی چیزیں اس باب میں زیر بحث ہیں قرآن کریم نے جگہ جگہ تفکر و تدبر کی بات کہی ہے بغیر اس کے قرآنی اسرار وحکم کے دروازے کھل نہیں سکتے اور اس تفکر و تدبر کے کچھ ضابطے اور قواعد ہیںاگر انہیں نہ برتا گیا تو راہ ہدایت کا حصول ممکن نہیں ہو گایہی وجہ ہے کہ ماضی میں بے شمارفتنے پیدا ہوئے اور سبھوں نے قرآن کریم ہی سے دلائل پیش کئےمولانا فرماتے ہیں کہ خوارج اپنے گمان کے مطابق قرآن مجید ہی کے سہار ے ابھرے۔ باطینوں کے تمام استدلات کی بنیاد ان کے خیال میں قرآن مجید ہی پر ہےبابیوں اور سبائیوں نے جو کچھ کہا اپنے زعم کے مطابق قرآن مجید ہی سے کہاقادیانیوں کی نبوت کی اساس ان کے دعوے کے مطابق قرآن مجید ہی پر ہے اور چکڑالوی تو قرآن کے سوا کچھ بولتے ہی نہیں۔ (۸)
آخر ایسا کیوں ہے؟جبکہ قرآن کریم ہدایت اور وضاحت کے لئے آیا تھااختلافات کو ختم کرنے کے لئے نازل کیا گیا تھااپنی تعلیمات میں غیر مشتبہ اور غیرمبھم ہے اور ہر اعتبار سے اس کے اندر ایک نظم، توافق اور کامل وحدت ہے۔ اگر ایسا ہے تو مناسب تو یہ تھا کہ تمام فرقوں کو ایک سطح پرلاکھڑا کر دیتا اور ان کے تمام اختلافات اور انتشارات کو مٹا دیتامولانا نے اس کا جواب ان لفظوں میں دیا ہے ”قرآن مجید کے مطالعہ کے کچھ خاص آداب و قواعد ہیں جن کا لحاظ اور اہتمام ضروری ہے ان کے بغیر قرآن کی راہ نہیں کھل سکتی ان میں سب سے مقدم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ارادہ اور نیت کی درستی ہے یہ اللہ کی کتاب ہے اور خلق کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہے اس لئے سب سے مقدم یہ ہے کہ انسان بالکل خالی الذہن ہو کر اس کو صرف طلب ہدایت کے لئے پڑھے اور اپنے قلب و دماغ کو پورے طور پر اس کے حوالے کر دے اپنے د ل کی باگ اس کے ہاتھ میں دے دے۔ (۹)
قرآن کریم نے اپنی خصوصیت کی طرف خود اشارہ کیا ہے:
ھُوَ الَّذِی اَنْزَلَ اِلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آٰیَاتٌ مُّحْکَمَاتٌ ہُنَّ اُمُّ الْکِتَاب وَاُخَرُ مُتَشَابِھَات فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغآٴءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَاوِیْلِہ وَمَایَعْلَمُ تَاوِیْلَہ اِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّابِہ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وََمَایَذَّکَّرُ اِلَّا اُ وْلُوْ اَ لٴاَ لْبَاب۔
(آل عمران)
وہی ہے جس نے اُتاری تم پر کتاب، جس میں سے کچھ آیات محکمات ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہات ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ قرآن کی متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں فتنہ پیدا کرنے کے لئے اور اس کی اصل ماہیت دریافت کرنے کے لئے حالانکہ اس کی ماہیت نہیں معلوم ہے مگر اللہ کو اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم ان پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نہیں سمجھتے ہیں مگر وہ جو عقل والے ہیں۔
اس کے بعد مولانانے بتایا کہ قرآن کریم میں دو طرح کی آیات ہیں محکم اور متشابہہ اور اس کے بعد اس پر اظہار خیال کیا ہے کہ قرآن پڑھنے والوں کی دو قسمیں ہیں ایک تو وہ حضرات جو صرف طلب رشد وہدایت کے لئے پڑھتے ہیںچنانچہ آیات محکمات ان کے لئے طمانیت اور ذہنی آسودگی کا سبب بن جاتی ہیںاورجب کبھی وہ ذہنی وساوس اور خلجان میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی زبان پر یہ دعا جاری ہوجاتی ہے۔ (۱۰)
رَبَّنَا لَاتُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابo (سورہ آل عمران:۸)
اے ہمارے رب ہم کوہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوڈانوا ڈول نہ کر، اپنے پاس سے ہم کو رحمت بخش تو بڑا بخشنے والاہے۔
دوسری جماعت ان لوگوں کی ہے جو اپنے اغراض و خواہشات کی تکمیل کے لئے قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیںمولانا فرماتے ہیں کہ ان کا مقصود و طلب رشدوہدایت سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے کسی قرار داد، مسلک کی تائید کے لئے اس میں دلیلیں تلاش کریں، یا جن سے ان کو اختلاف ہے ان کو چپ کرانے کے لئے اس میں سے اعتراضات اور کج بحثیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں۔ (۱۱)
جبکہ قرآن کریم تطہیر قلب اور روح کے تزکیہ کے لئے نازل کیا گیا ہےیہ دماغی عیاشیوں اور کج بحثی؟ کے لئے نہیں نازل کیا گیاہےقرآن کریم میں ارشاد ہے۔
اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی الْسَّمْعَ وَ ھُوَ شَہِیْد
(سورہ ق:۳۷)
اس کے اندر اس شخص کے لئے یاددہانی ہے جس کے پاس بیدار دل ہو یا وہ کان لگائے متوجہ ہوکر۔
یعنی قرآن کریم ان لوگوں کے لئے صحیفہ ہدایت ہے جو
اَلَأمَنْ اِلَی اللّٰہِ بِقَلْبٍ سَلِیْم
مگر جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آئے۔
اور اسی طرح سورہ ق میں آیا ہے کہ ”وَجَأءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْب“(جو متوجہ ہونے والا دل لے کر آئے)جو لوگ قلب سلیم اور قلب منیب کے بغیر قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب کتاب ہدایت ثابت نہیں ہو سکتی۔ (۱۲)
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
اَلَّذِیْنَ یُجَادِلُونَ فِی آیَاتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطَان اٰتَاھُمْ کِبَرَ مَقْتًا عِنْدَالَّذِیْنَ آٰمَنُوْا کَذَالِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلْ قَلْبٍ مُّتَکَبِّرٍ جَبَّار
(سورہ غافر:۳۵)
قرآن کریم کانزول اس لیے ہو ا ہے کہ وہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر اجالوں کی طرف لے آئے لیکن یہ ہدایت اور ضلالت قرآن کریم کے قانون اور ضابطے کے مطابق ہوتی ہے اللہ قانون حکمت کے مطابق جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ضلالت دیتا ہے وہ اہل ایمان کو ہدایت دیتا ہے او اہل کفر جن کے اولیاء طاغوت ہیں انہیں ضلالت سے ہم کنار کرتا ہے مولانا نے سورہ بقرہ کی آیات ۲۵۸سے۲۶۰ تک نقل کی ہیں جن سے تین ایسے لوگوں کی مثالیں پیش کی ہیںجنہیں تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے یا ان کو تاریکی میں چھوڑدیتا ہے ایک تو وہ ہے جو اپنی دولت و حکومت اور سلطنت و عظمت کے نشہ میں مخبوط ہے وہ حضرت ابراہیم کی پیش کردہ روشنی سے اعراض کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص ہے جو یقین و بصیرت کا طلبگار ہے طلب ہدایت اور حصول رشد کے لئے مضطرب ہے مولانا ایسے حیرت زدہ شخص کے لئے لکھتے ہیں” وہ بستیوں کے ہجوم سے بھاگتا اور شہروں کے اژدھام سے گھبراتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی مقام عبرت و موعظت کا کوئی خلوت کدہ میسر آجائے تو اپنے سوالوں کو لے کر بیٹھ جائے جن کے جواب کے لئے وہ ہمہ وقت تشنہ و بیقرار ہے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی تمام الجھنوں کو دورکر دیتا ہے اور وہ یقین کامل کی روشنی سے معمور ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے:
فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ قَالَ اَعْلَمُ اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِ شَیٴٍ قَدِیْر(سورہ البقرة:۲۵۹)
اس کے بعد تیسرے شخص حضرت ابراہیم کی مثال ہے جو اللہ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ مجھے مردوں کو زندہ کرتے ہوئے دکھا دے، مجھے پورا یقین ہے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے لیکن یہ مطالبہ صرف شرح صدر کے لئے ہے یعنی یہ تیسرا شخص نہ تو پہلے کی طرح متکبر ہے اور نہ ہی دوسرے کی طرح متشکک۔ اسی طرح کی ایک مثال سورہ مجادلہ میں ذکر ہے ایک عورت ہے جو دینی معاملات میں اللہ سے مجادلہ اور رسول سے شکوہ کرتی ہے یہ مجادلہ اور شکوہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے شکوک اور اضطرابات کو دور کرے اور اس کے بعدایک منافق کی مثال دی گئی ہے جو اس گھات میں رہتا ہے کہ دین اسلام میں کوئی ایسی اعتراض اور نکتہ چینی کی بات پائیں اور اس کو لے اڑیں۔ (۱۳) ان کے متعلق قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الْذِیْنَ یُحَادُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ کُبِتُوا کَمَاکُبِتَ الْذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِم وَقَدْ اَنْزَلْنَا آیَاتٍ م بَیِّنَاتٍ وَ لِلْکَافِرَیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْن۔ (سورہ المجادلة : ۵)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑا کرتے ہیں وہ لوگ ذلیل کردیئے گئے ہیں جس طرح وہ لوگ ذلیل کر دئیے گئے جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے کھلی کھلی آیتیں اتار دی ہیں اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
اوپر جو ایک عورت اور ایک منافق کا ذکر آیا ہے اصلاًیہ دو جماعتوں کا ذکر ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ خدا اور رسول کے ساتھ معاملہ کرنے کا طریقہ عرض ومعروض اور شکوہ و التجا ہے نہ کہ محارّہ اور مشاقہ۔ پس خدا کے دین یا اس کی کتاب میں اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو اس کی راہ صرف یہی ہے کہ اس کو خدا ہی کے سامنے پیش کرے اور اسی سے تسلی و تشفی اور فتح باب کا متمنی ہو یہ نہ کرے کہ جھٹ اس کو ذریعہ اعتراض و نکتہ چینی بنا کر ایک نیا دین کھڑا کر دے۔ (۱۴)
تدبر قرآن کی ایک بنیادی شرط تقویٰ اور عمل ہے سورہ بقرہ کی پہلی ہی آیت میں مذکورہے:
ذَلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن۔
اور سورہ لقمان میں ہے :
تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیْم ھُدًی وَّ رَحَمَةٌ لِّلْمُحْسِنِیْن
یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ کیوں صرف متقین اور محسنین ہی کے لیے صحیفہ ہدایت ہے ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو درجہ بدرجہ ہدایت دی ہے ہدایت کا پہلا زینہ ہدایت جبلت ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں ہوا ہے:
اَلَذِیْ قَدّرَ فَھُدٰی اَمَرَ فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰاھَا
یہ دراصل ادراک وتعقل اور ذوق و وجدان کی ہدایت ہے جس میں تمام نبی نوع انسان یکساں طور پر شامل ہیںاور اس کی مدد سے وہ اپنے کاموں میں نظم و ترتیب پیدا کرسکتے ہیں اور اپنی ذاتی قوت فیصلہ سے شر کو چھوڑ کر خیر کو اختیار کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد ہدایت کا دوسرا درجہ انبیاء ورسل کی بعثت سے ظہور میں آیاچنانچہ انبیاء ورسل کی کدوکاوش سے شریعت کا وجود ہوا اور اس شریعت کی تکمیل بھی بتدریج ہوئی آخر میں آنحضور نے اس شریعت کی تکمیل فرمائی جسے دین اسلام کے نام سے دنیا جانتی ہے۔
قرآن کریم نے براہ راست تین جماعتوں کو مخاطب کیا ہے عرب، یہود اور نصاری،عربوں میں کچھ ایسے تھے جو دین ابراہیمی کی سادگی پر قائم تھےاسی طرح یہود کی ایک چھوٹی سی جماعت حق پر قائم تھیاور نصاری میں سے کچھ لوگ بھی صحیح دین مسیح پر باقی تھےقرآن نے سب سے پہلے عربوں کو مخاطب کیا چنانچہ ان میں جو دین ابراہیمی کی فطری سادگی پر قائم تھے انہوں نے جب قرآن کی آواز سنی تو ان کو محسوس ہوا کہ گویا اپنے ہی دل کی آواز سن رہے ہیںانہوں نے دعوت قرآن کو بغیر معجزہ کے مطالبہ کے قبول کر لیاسورہ نور میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیاکہ
یُکَادُ زَیْتُھَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہ مَنْ یَّشَآءُ۔
اس آیت میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان سے محسنین اور متقین مراد ہیںاحادیث میں بھی احسان کا یہی مفہوم بیان کیا گیاہےمولانا کا بھی یہی خیال ہے کہ قرآن مجیدنے اسی مفہوم کے اعتبار سے اہل مکہ یا اہل کتاب کی ان جماعتوں کے لئے اس کو استعمال کیا ہے جنہوں نے فطرت اور وحی کی روشنی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا، قرآن میں جگہ جگہ وارد ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو راہ راست پر رکھتا ہےان کے عمل کو ضائع نہیں کرتا،ایسے ہی لوگوں کے لئے یہ کتاب الہی ہدایت و رحمت ہے۔ (۱۵)
ان کے علاوہ جو دوسرے حضرات ہیں انہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو برباد کرڈالا تھااوروہ غیر فطری معتقدات و اوہام کے شکار ہوگئے تھے۔ مولانا نے ان لوگوں پر اس طرح روشنی ڈالی ہے ”چنانچہ جب آنحضرت نے ان کے سامنے قرآن مجید پیش کیا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیںاس کے سننے اور سمجھنے سے انکار کردیااور ان کا یہ انکار درحقیقت ان کے بہت سے سابق انکاروں کا لازمی نتیجہ تھا۔ انہوں نے ہدایت کے ابتدائی مراحل میں اس کو قبول کرنے سے اعراض کیا اس لئے بعد کے مرحلوں میں بھی اس کا ساتھ نہ دے سکے اور ایسا ہونا قدرتی تھا۔ (۱۶)
اس کے بعد مولانا نے اس پہلو کو لیاہے کہ شریعت الہی عمل کے لئے نازل ہوئی ہے اسی لئے یہاں علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی ضروری ہے اگر علم بغیر عمل کے ہے تو یہ علم ناقابل اعتبار ہے اور اس علم سے مزید علم و عمل کے دروازے نہیں کھلا کرتے، ایسے علم کو علم نہیں بلکہ جہل کہیں گے۔ یہود کی اکثریت کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا، انہوں نے اپنے تمام انبیاء کی تعلیمات کو جھٹلا دیااور قرآن مجید کا بھی انکار کردیا۔
مولانا آگے لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے ابتداء ہی میں یہ اصولی بات ذکر کردی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے امتحانوں سے گزرنے کے بعد کہا کہ”اِنْی جَاعِلُکَ لِلْنَاسِ اِمَامًا“اسی طرح حضرت موسی نے جب اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لئے دعا کی۔ (۱۷)
تو اللہ نے فرمایا:
عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِہِ مَنْ اَشَاءُ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیٴٍ فَسَاَکْتُبْھَا لِلْذِیْنَ یَتَقُوْنَ(سورہ الاعراف:۱۵۶)
میرا عذاب تو میں جس پر چاہتا ہوں (یعنی جو اس کا مستحق ہوتا ہے) اس پر نازل کرتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے پس میں اس کو لکھ رکھوں گا۔ ان لوگوں کے لیے جوتقویٰ پر قائم رہیں گے۔ یعنی جو اللہ کے عہد پر قائم رہیں گے اور اس کی حدود کا پاس و لحاظ رکھیں گے۔
انہی کے لیے یہ کتاب باعث ہدایت ثابت ہو گیمولانا فرماتے ہیں،اس کو وہی لوگ قبول کریں گے جو متقی ہیں جنہوں نے اپنے عہدو پیمان کو قائم رکھا ہے جنہوں نے خدا کی نعمت کی قدر کی ہے۔ جنہوں نے اپنے انبیاء کی تعلیمات کو یاد رکھا ہے اور جن لوگوں نے خدا سے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیا ہے اس کے رشتوں پرمقراض چلا چکے ہیںوہ ہرگز قرآن کریم کو بطور صحیفہ ہدایت کے قبول نہیں کریں گےقرآن کریم میں ارشاد ہے۔
یُضِلُّ بِہ کَثِیْرًُا وَّیَھْدِیْ بِہ کَثِیْرًا وَمَایُضِلُّ بِہ اِلَّاالْفَاسِقِیْنَo الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مِیْثَاِقِہ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ(سورہ البقرہ:۲۶،۲۷)
اللہ تعالیٰ اس حقیر مثال سے گمراہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس مثال کی وجہ سے بہتوں کو اور ہدایت کرتے ہیں اس کی وجہ سے بہتوں کوگمراہ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ اس مثال سے کسی کومگر صرف بے حکمی کرنے والوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدے کو جو اللہ تعالیٰ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد اور قطع کرتے رہتے ہیں ان تعلقات کوکہ حکم دیا ہے اللہ نے ان کو وابستہ رکھنے کا اور فساد کرتے رہتے ہیں۔ زمین میں پس یہ لوگ پورے خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
آگے مولانا فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے چونکہ اللہ کے وعدوں اور اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کی اسی لئے وہ قرآن عظیم جیسی نعمت اور رحمت سے محروم ہے۔ ٹھیک یہی حال نصاری کے ایک بڑے حصے کا بھی تھاجو تعلیمات قرآن کو اپنے افکار وخیالات کے برعکس تصور کرتا تھاچنانچہ یہ حضرات قرآن کریم کی ہدایت سے محروم رہے۔ لیکن ان میں سے ایک ایسا صالح العقیدہ طبقہ تھا جس نے قرآن کریم کی آواز پر بڑھ کر لبیک کہاقرآن کریم نے انہیں محسنین کے لقب سے یاد کیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے
فَاَثَا بَھُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰالِدِیْنَ فِیْھَا وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ“ (سورہ المائدہ :۸۵)
پس ان کے اس قول کے صلہ میں اللہ نے ان کو ایسے باغ دیئے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے اوریہ بدلہ محسنین کا۔
مولانا فرماتے ہیں کہ اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ قرآن مجید کے متعلق جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ہدایت ہے متقین کے لئے، یہ ہدایت ہے محسنین کے لئے تو اس کا مفہوم اس سے کس قدر وسیع ہے جو ہم عام طور پرسمجھتے ہیںاس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس وجہ سے اس کا فہم و تدبر صرف انہی لوگوں کو نصیب ہوتاہے، جو اس نعمت پر اللہ کے شکر گزار ہوں اور اس کی شکر گزاری یہ ہے کہ یہ جس مقصد کے لئے ان کو دی گئی ہے اس مقصد کو پورا کریں۔ اس کو دینے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی عملی و اعتقادی زندگی پر اس کو پوری طرح طاری کریں، جوں جوں وہ اس نعمت کے قدر و احترام میں بڑھتے جائیں گے اس قدر اس کی برکتیں ان کے لئے بڑھتی جائیں گی۔ (۱۹)
اس کے بعد مولانا نے تدبر قرآن کے داخلی اور خارجی وسائل سے بحث کی ہے لیکن مولانا نے خود بتایا کہ یہاں پہلے سوال کے ایک حصہ اور دوسرے سوال کے بعض ضروری پہلوؤں کی طرف بالاجمال اشارہ کیا گیا ہے۔
پہلے سوال کے ایک حصہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے بتایا کہ قرآن مجید کے فہم و تدبر کے لئے سب سے پہلی چیز خود قرآن کریم ہے۔ سلف کا یہ مذہب رہا ہے کہ وہ تمام مشکلات میں پہلے قرآن کریم ہی کی طرف رجوع کرتے۔ کیونکہ اَلْقُراٰنَ یُفَسِرُبَعْضَہُ بَعْضًا“اور قرآن نے خود اپنی صفت کتابہاً متشابہاً بتا ئی ہے مفرد الفاظ کے علاوہ اسالیب کلام و نحوی تالیف وغیرہ کے باب میں بھی قرآن مجید کا یہی حال ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ رباب نحو قرآن مجید کی جن ترکیبوں میں نہایت الجھے ہیں اور کسی طرح اس کو نہیں سلجھا سکے ہیں خود قرآن مجید میں ان کی مثالیں ڈھونڈ لیں تو ایک سے زیادہ مل جائیں گی اور پیش و عقب کے ایسے دلائل و قرائن کے ساتھ مل جائیں گی کہ ان کے بارے میں ہمارے اطمینان کو کوئی چیز مجروح نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی تعلیمات، اس کے تاریخی اشارات اور اس کی مخفی تعلیمات کے سلسلے میں تمام مفسرین نے اعتراف کیا ہے کہ قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر اس کی تفسیر اور تصریح بیان کی ہے۔
قرآن کریم کی تفسیر کے سلسلے میں مولانا کا خیال ہے کہ تفاسیر کو ہرگز مقدم نہ رکھا جائےتفاسیر دو طرح کی ملتی ہیںایک تو کسی مکتب فکر کی نمائندگی کرتی ہیں یاتو روایات اور اقوال سلف کے تمام رطب ویابس کا مجموعہ ہیں۔ مولانا کا خیال ہے کہ قرآن کریم کا طالب علم ہرگز ان تمام تفاسیر کے چکر میں نہ پڑے۔ ورنہ اس کی تحقیق اور جستجو کا سلسلہ منقطع ہو جائے گاپہلے کسی نتیجہ تک پہنچنے کے بعد ان تفاسیر کا رخ کرے،انشاء اللہ روایات سے ضرور اس کی تائید ہو گی۔ اگر روایات سے تائید نہ ہو رہی ہو تو دوبارہ اپنے خیال اور روایات کو سامنے رکھ کر غور کرے،انشاء اللہ یاتوآپ کی رائے کی کمزوری کا پہلو واضح ہو جائے گایا حدیث کا صنعف منظر عام پر آجائے گالیکن ان مقامات پر عجلت کی نہیں بلکہ توقف کی ضرورت ہے اس طرح دھیرے دھیرے ضرور وہ حکمتوں اور معارف کے خزینوں کو پالے گا۔
مولانا نے فہم قرآن کے متعلق یہ بھی بتایا کہ طالب قرآن کے لئے ضروری ہے کو وہ عہد نزول قرآن،قدیم عرب اور ان سے متعلقہ اقوام کی تاریخ سے واقف ہو کیونکہ قرآن کریم بے شمار آیات انہی موضوعات سے متعلق ہیںکیونکہ ان کے بغیر قرآن کریم کی تاثیر پورے طور سے منظر عام پر نہیں آسکتی۔ ایک عرب، آیات قرآن کریم سن کر کیوں بے خود ہو جاتا تھا کیونکہ وہ عہد نزول قرآن سے پوری طرح واقف تھا۔ آج جب تک لوگوں کے سامنے اس عہد کی تمام خصوصیات اور گذشتہ اقوام کے حقائق نہ بیان کئے جائں ی گے اس وقت تک قرآن کریم کی پوری اہمیت منظر عام پر نہیں آسکتی۔ (۲۰) مولانا فرماتے ہیں اس عہد کی تمدنی حالت، اس عہد کے سیاسی رجحانات،اس زمانے کے مذہبی عقائد و تصورات اور اخلاقی معیارات وغیرہ،نیز زمانہ نزول قرآن میں مختلف قوموں کے تعلقات کی نوعیت،ان کے دستورومراسم کی کیفیات،ان کے اصنام کی خصوصیات اور تمدن وسیاست پر ان کے اثرات وغیرہ(۲۱) پر قرآن کریم پر غور کرنے والے کی نظر ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسی کوئی تفسیر ہے جو اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کر سکے؟اس کے علاوہ عرب کی جو تاریخ موجود ہے۔ وہ ناقابل اعتبار ہیں اس لئے اس باب میں جو کچھ قرآن میں موجود ہے اسی پر اعتماد کیا جائے اس سلسلے میں مولانا نے اپنے استاذگرامی کا حوالہ دیا ہے کہ اس باب میں ان کی تفسیر سورہ فیل!(۲۲) ایک اعلیٰ نمونہ کا درجہ رکھتی ہے مولانا لکھتے ہیں ”اس معاملہ میں استاذ امام مولانا حمید الدین صاحب فراہی کے طریق فکر ونظر کا اندازہ کرنے کے لئے سورہ فیل کی تفسیر پڑھنی چاہیے اس سے معلوم ہو گا کہ ان کا اصلی اعتماد، قرآن مجید کے اشارات اور کلام عرب پر ہوتا ہے،اور تاریخ کی روایات کو وہ ہمیشہ انہی دونوں کسوٹیوں پر پرکھ کر قبول کرتے ہیں اور حق یہ ہے کہ اس باب میں ان دوچیزوں کے سوا کسی تیسری چیز سے مشکل ہی سے مدد ملتی ہے۔ (۲۳)
آگے مولانافرماتے ہیں قرآن مجید کی زبان اور اس کے اسالیب کی مشکلات حل کرنے میں تین چیزیں کتب لغت اور کلام عرب،کتب نحو اور کتب بلاغت معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
کتب لغت میں سب سے زیادہ اہم مولانا نے ”لسان العرب“ کو قرار دیا ہے یہ لغت قرآن مجید کے سلسلے میں ارباب تاویل کے اقوال نقل کردیتا ہے، اس سے بچنے کی ضرورت ہے،کیونکہ اس سے لغت کا مفہوم فوت جاتا ہےاس کے بعد مولانا نے امام راغب کی مفردات القرآن کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ لغت بھی قرآن کے سلسلے میں زیادہ معتبر نہیں ہے بلکہ یہ صرف مبتدیوں کے لئے ہے کیونکہ اس میں نہ تو سارے الفاظ ملتے ہیں اور نہ ہی کلام عرب سے استشہاد پیش کیا گیا ہےمولانا کہتے ہیں کہ ایسا کوئی لغت نہیں ہے جس میں یہ صراحت ہو کہ یہ لفظ خالص عربی ہے، یامولداس کے معنی کیا ہیں اور اس کے معانی میں سے کس پر اس کا اطلاق حقیقتاً ہے اور کن پر اطلاق مجاز(۲۴) صرف ” صحاح جویری“(۲۵) میں کہیں کہیں یہ چیز ملتی ہے۔ مگر بہت کم لفظوں کے حقائق کااندازہ صرف کلام عرب اور اسالیب کلام سے لگایا جاسکتا ہے، اور انہی دونوں چیزوں کے ذریعہ الفاظ کے معروف اور شاذ معانی کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ورنہ وہی ہوگاکہ”تمنی“ کے معنی تلاوت کرنے کے اور”نحر“ کے معنی سینہ پر ہاتھ باندھنے کے لئے جائیں گے۔ مولانا فراہی کا اس سلسلے میں تمام تر انحصار کلام عرب پر تھاوہ اگر کسی لفظ کے بارے میں متردد ہوتے تو کلام عرب اور قرآن مجید میں اس کا حل تلاش کرتے۔ (۲۶) اس سلسلے میں مولانا کی دو کتابیں ” اسالیب القرآن“ (۲۷) اور ”مفردات القرآن“ (۲۸) بڑی عظمت کی حامل ہیں۔
قرآن کریم کی نحوی مشکلات کے سلسلے میں مولانا نے بتایا کو اس سلسلے میں کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاسکےارباب تفسیر میں تنہاز مُحشری ہیں جنہوں نے اپنی تفسیرمیں نحوی مسائل سے بحث کی ہے مولانا نے اس باب میں ایک گرانقدر بات یہ کہی ہے کہ قرآن کریم کے طلبہ کو چاہیے کہ وہ کلام عرب پر اعتماد کریں اسی طرح مولانا نے یہ بھی بتایا کہ میری نظر میں ایسی کوئی کتاب نہیں جس میں قرآنی بلاغت سے بحث کی گئی ہو۔ (۲۹) البتہ اس موضوع پر امام باقلانی (۳۰) کی خدمات قابل قدر ہیں۔ اسی طرح ابن تیمیہ اور ابن قیم کی تصانیف میں بھی کچھ جواہر ریزے مل جاتے ہیں اور مولانا فراہی کی کتاب ”جمیرةالبلاغہ“(۳۱) اس سلسلہ کی آخری اور سب سے زیادہ اہم چیز ہے (۳۲) یہ کتاب قرآنی بلاغت کو سمجھنے میں حد درجہ معاون ہے۔
اس مقالہ کے آخر میں مولانا نے بتایا کہ قرآن کریم کے طالب علم کو دیگر آسمانی کتب کا مطالعہ بھی ضرور ی ہے تاکہ قرآن کریم کی ایک آخری آسمانی کتاب کی حیثیت سے عظمت منظر عام پر نیز اہل کتاب کے اعتراضات کا علمی اور مُسکت جواب اسی وقت ممکن ہے جب کسی کی توریت اور انجیل پرگہری نظر ہوان کتابوں کے مطالعہ سے ایک دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اہل کتاب کے باب میں جو اشارات اور تلمیحات ہیں انہیں بخوبی سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ خود قرآن کریم کی بہت سی آیات سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ان آسمانی صحیفوں کا مطالعہ کیا جائے مثلاً ارشاد باقی ہے:
وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِیّ الْزَبُوْرِمِنْ بَعْدِا لْذِّکْرِ اِنَّ الّاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الْصَالِحُون (سورہ الانبیاء:۱۰۵)
اور ہم نے تو نصیحت کے بعد یقینازبورمیں لکھ ہی دیا ہے کہ زمین کے وارث صالح بندے ہوں گے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے :
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبَرَاہیْمَ وَمُوْسٰی۔ (سورہ الاعلیٰ:۱۸)
بیشک یہ بات پہلی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے ابراہیم اور موسی کی کتابوں میں۔
کتب سابقہ سے ایک قرآن کا طالب علم متعدد فوائد حاصل کر سکتا ہے لیکن ان کتابوں کے باب میں اصل معیار اور کسوٹی قرآن کریم ہی کو بتایا جائے گامولانا حمید الدین فراہی نے ایک طرف جہاں ان کتابوں سے فائدہ اٹھایا وہیں قرآن کی روشنی میں ان کی تحریف کی طرف اشارہ کرتے ہیں(۳۳) اس سلسلے میں مولانا کی کتاب ”الذبیح“(۳۴) بطور مثال ملاحظہ کی جاسکتی ہے اسی طرح علامہ ابن تیمہ کے یہاں بھی ان کتابوں کا ذکر ملتا ہے۔
اس کتاب کا تیسراباب تیسیرالقرآن ہے، آغاز بحث میں مولانا نے فرمایا کہ قرآن نے خود مختلف جگہوں پر اپنی تعریف بیان کر دی ہے کہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے اللہ نے اسے آسان بنایا ہےوہ پیچیدگیوں سے پاک ہےاور ہر چیزکو وضاحت سے بیان کرتی ہے قرآن کی اس تعریف کی روشنی میں یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن میں کوئی چیز گنجلگ نہیں ہے تمام لوگوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اسی لئے محتاج تفسیر تاویل نہیں اس کا انداز اتنا شگفتہ ہے کہ وہ اپنے سوا کسی چیز کا محتاج نہیںقرآن دانی کے لیے عربی زبان دانی کافی ہے اور وہ تفسیر آیات میں احادیث،شان نزول اور لغت عرب کا محتاج نہیں ہےیعنی وہ بالکل واضح ہے تفسیر آیات کے لئے صرف عربی زبان کا جاننا کافی ہے مذکورہ خیال کی روشنی میں تین چیزیں سامنے آتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ چونکہ تمام طبقوں کے لئے صحیفہ ہدایت ہے اس لئے قرآنی تعلیم و دعوت کا معیار عام عقل انسانی کے معیار کے مطابق ہے اس کے اسرار و رموز کی وضاحت کے لئے خواص کی ضرورت نہیںدوسرے یہ کہ قرآن کریم کی ہر بات چونکہ قطعیت کا درجہ رکھتی ہے اس لئے اس کی وضاحت کے لئے تفسیر و تاویل کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا انحصارظنیات یعنی روایات و احادیث پر ہوتا ہے اور تیسرے یہ چیز سامنے آتی ہے کہ قرآن کریم اپنے زبان وبیان کے لحاظ سے اس قدر شگفتہ ہے کہ ایک عجمی کے لئے صرف عربی زبان کے علم کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیںمولانا کا خیال ہے کہ ان آراء کے پیچھے بہت سی غلطیاں پوشیدہ ہیں جن کو آگے چل کر واضح کریں گے۔
اس سلسلے میں مولانا سب سے پہلے تفسیر کے مختلف ادوار کی طرف اشارہ کیااور بتایا کہ قرآن کریم کا سب سے مبارک دور دوراول تھالیکن بعد میں جب دائرہ اسلام کشادہ ہوا اور مختلف بدعات وخطرات سے قرآنی تعلیم دوچار ہوئی تو اہل سنت اور اہل حق نے یہ طے کیا کہ تفسیر قرآن کے باب میں تمام قیل وقال سے قطع نظرصرف احادیث رسول اور افوال و آثار صحابہ پر اعتماد کیا جائے گااس اصول کے پیش نظر سب سے پہلے جو تفسیر منظر عام پر آئی وہ علامہ ابن جریر کی تفسیر ہے ایک آیت کی تفسیر کے لیے تمام روایات نقل کر دی گئی ہیںلیکن روایات کے سلسلے میں کوئی تنقید نہیں ہے جس کی وجہ سے ان میں جو جواہر ریزے ہیں وہ منکر اور ضعیف روایات کے انبار میں گم ہیںلیکن پھر بھی مولف کی یہ بہت بڑی خدمت ہے۔
اس کے بعد سب سے زیادہ مقبول اور مشہور تفسیر ابن کثیر کی ہے جو تفسیر ابن جریر کا خلاصہ ہے اس میں ایک اضافہ یہ ہے کہ محدثانہ طریق پر اس میں روایات کی تنقید کی گئی ہے۔ اس کے بعد تفسیر کی بنیادی کتاب امام رازی کی ہے جوحکیمانہ طرز پر لکھی گئی ہے۔ اصلاًیہ تفسیراشعریت کی تائید و توثیق کے لئے لکھی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے مفید کی بجائے مضر ثابت ہوئی۔ اس کے بعد تفسیر کی چوتھی اہم کتاب علامہ زمحشری کی تفسیر کشاف ہے یہ تمام مذکورہ تفاسیر سے جداگانہ ہے۔ یہ اپنا محور عبارت قرآن کو بتاتے ہیں۔ یہ پہلے لغت اعراب اور ربط کلام سے بحث کرتے ہیں اور نہایت احتیاط کے ساتھ روایات بھی لاتے ہیںیہ تفسیر قرآن کریم کے طلبہ کے لئے مفید ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ جس طرح امام رازی اشعریت کے ممدو معاون ہیں اسی طرح علامہ زمحشری مذہب اعتدال کے وکیل ہیں۔ قرآن کریم کے ساتھ یہ حددرجہ نا انصافی ہے کہ اس کے پیچھے چلنے کے بجائے آدمی اس بات کی کوشش کرے کہ اس کو خود اپنے کسی فکر وخیال کے پیچھے چلائے۔
تفسیر کی یہی بنیادی کتابیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دور اول کے بعد تفسیر قرآن کی راہ میں جو پہلا قدم اٹھایاگیا وہی غلط تھااس کے سدباب کے لئے روایات و آثار کاسہارا لیاگیالیکن اس درجہ انہماک ہو ا کہ صحیح اور ضعیف کا امتیاز مٹ گیااور روایات کے ساتھ ساتھ قصوں اور اسرائیلیات کا ایک بڑا حصہ تفاسیر میں داخل کر دیا گیا۔ (۳۵) اس کے متعلق مولانا کا خیال ہے ظاہر ہے کہ تفسیر میں صرف روایات ہی پر پورا پورا اعتماد کر لینا قرآن مجید کی قطعیت کو نقصان پہنچانا ہے اس صورت میں خود قرآن مجید کے الفاظ کا فیصلہ باطل ہو جاتا ہے(۳۶)مذکورہ گفتگو سے دو چیزیں منظر عام پر آتی ہیں ایک تو یہ کہ تفاسیر کا تمام تر انحصار صدر اول کے بعد روایت و آثار پر ہو گیا اور دوسرے یہ کہ علم کلام کے غلو؟ نے قرآن مجید کی قطعیت کو حد درجہ متاثر کیا یعنی قرآن کریم کے الفاظ پر اعتماد کرنے کے بجائے متکلمین کی برہانیات پر اعتماد شروع ہو گیا۔ (۳۷)
اس کے بعد مولانا نے کلام کے مشکل اور آسان ہونے کے تین پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے اس پہلو سے بحث کی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کا مقصد کیا ہے؟ چونکہ روز اول ہی سے بنی نوع انسان کو شیطان کے مکرو فریب کا سامنا کرنا پڑا اس لئے شیطان کی جعل سازیوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مستقل اپنے انبیاء ورسل کے ذریعہ ہدایات بھیجنے کا انتظام کیا اور خاتم الرسل حضرت محمد مصطفی کو آخری صحیفہ ہدایت قرآن کریم عطا کیا گیا۔ قرآن کریم کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان ہدایت کے راستوں پر گامزن ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو شیطان کی چالوں سے بچنے کے لئے اس طرح تسلی دی۔
”فَامَایَا تِیَنَکُم مِنْی ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَاخَوْفٌ عَلِیْھِمْ وَ لَأھُمْ یَحْزَنُوْنَ“ (سورہ بقرہ:۳۸)
اگر میری جانب سے کوئی ہدایت آئے تو تم اس کی پیروی کرنا، جس نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لئے نہ خوف ہے نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس کے بعد مولانا نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ جن و بشر میں سے جو بھی ہدایت کے راستہ سے لوگوں کو دور کرے وہ شیطان ہے یعنی یہ شیاطین انسانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں شیطان کا مفہوم بہت وسیع ہے انسانی شیاطین کی طرف قرآن کریم نے خود اشارہ کیا ہے
”اَلَّذِی یُوَسِْوِسُ فِی صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاس“ (سورہ الناس:۵،۶)
جو لوگوں میں وسوسہ ڈالتا ہے جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔
سورہ بقرہ میں ارشاد ہے:
”وَاِذَا لَقُوْا لَّذِیْنَ اٰمَنُوا قَالُوْا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیَاطِیْنِھِمْ قَالُوْا اِنَّامَعَکُمْ“ (سورہ البقرة:۱۴)
جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں(سرداروں)کے پاس ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
مولانا لکھتے ہیں کہ یہ ایک ضمنی بحث تھی اصلاً بتانا یہ ہے کہ قرآن کا نزول کن مقاصد کے پیش نظر ہوا ہے قرآن کریم میں یہ چیز صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ نبی اکرم کو اس دنیا میں تین چیزوں کے لئے مبعوث کیا گیا۔
۱ تلاوت آیات ۲ تزکیہ ۳ تعلیم کتاب
حواشی
۱۔ ”مبادی تدبر قرآن“ کی پہلی اشاعت اپریل ۱۹۵۱ءء میں تدبر قرآن کے عنوان سے ہوئی تھیجس میں صرف دو باب”تدبر قرآن ”اور ”تیسیر قرآن“ شامل تھے”تدبر قرآن“ ہی کے عنوان سے مئی ۱۹۵۲ءء میں جب اس کی دوسری اشاعت زیر عمل آئی تو اس میں دواورباب کے اضافے کئے گئے جن کے عناوین ”فہم قرآن کے لئے چند ابتدائی شرطیں“ اور ”تفسیر کے اصول“ تھےاس کا عنوان ”مبادی تدبر قرآن“ کر دیا گیا۔
۲۔ اس سلسلے میں دیکھیے؛مولانا حمید الدین قراہی اور علم حدیثمولانا امین احسن اصلاحی مرحوممجلہ الفرقان لکھنو جلد ۶۶،شمارہ ۰۹،دفتر ماہنامہ الفرقان۳۱/۱۴ اظہر آباد،لکھنو ستمبر ۱۹۹۸ء، ص۱۴۱۸۔
۳۔ تدبر قرآن امین احسن اصلاحیمکتبہ چراغ راہلوٹیا بلڈنگ آرام باغ روڈ کراچی باردوم مئی ۱۹۵۶ء ص۲۴۲۵
۴۔ ایضاًص۲۷۲۸ ۵۔ ایضاًص ۲۹ نمبر ۶۔ ایضاً وضاحت کے لئے دیکھئے۳۲۳۴
۷۔ ایضاً ص۳۴۳۵ ۸۔ ایضاً ص۴۱۴۲ ۹۔ ایضاً ص۴۲۴۳
۱۰۔ وضاحت کے لئے دیکھیےص۴۴۴۶ ۱۱۔ ایضاً ص۴۷
۱۲۔ ایضاً ص۱۲ ۱۳۔ ایضاً وضاحت کے لئے دیکھیے ص۵۳۶۴
۱۴۔ ایضاًص۶۴ ۱۵۔ وضاحت کے لئے ص۶۵۷۱
۱۶۔ ایضاً ص۷۱ ۱۷۔ ایضاً۷۳۷۴ ۱۸۔ ایضاً ص۷۵
۱۹۔ ایضاً ص۷۹۸۰ ۲۰۔ وضاحت کے لیے دیکھیےص۸۴۹۰
۲۱۔ ایضاً ص۹۰ ۲۲۔ مولانا کی یہ تفسیر جزوی طور پر اور دیگر تفسیری اجزاء کے ساتھ شائع ہو چکی ہے دیکھیے تفسیر نظام القرآن حمید الدین قراہی (ترجمہ از امین احسن اصلاحی) دائرہ حمیدیہ مدرسةالاصلاح سرائے میر اعظم ۱۹۹۰ء ء ص۳۶۳۴۱۰ مولانا کی یہ تفسیر اہل علم کے نزدیک ہمیشہ معرض بحث بنی رہی اس سلسلے میں دیکھیے مولانا فراہی فیل پر اعتراضات کا جائزہمولانا نسیم ظہیر اصلاحی مجلہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ۶ /۲، اپریل جون ۱۹۷۸ء ص ۲۸۱۹۶
۲۳۔ تدبر قرآن ص۹۱ ۲۴ایضاً ص۹۱۹۲ ۲۵صحاج جوہری بحوالہ تدبر قرآن ص۹۱۹۲
۲۶مبادی تدبر قرآنمولانا امین احسن اصلاحی مرکزی انجمن خدام القرآنلاہورباب چہارم ۱۹۸۰ء ص۶۰
۲۷ ” اسالیب القرآن“پر دیکھیے قرآن مجید کے بعض اسالیب سے متعلق مولانا فراہی کی توصیحاتایک مطالعہ مولانا تعلیم الدین اصلاحی (علامہ حمید الدین فراہی، حیات و افکار، ۱۹۹۲ء انجمن طلبہ قدیم مدرسةالاصلاح سرائے میر اعظم گڑھیوپی انڈیاص۳۸۷۴۰۱ ۲۸مفردات پر خاکسار کامضمون دیکھیے
۲۹۔ تدبر قرآن ص۹۵۹۶ ۳۰۔ وضاحت کے لیے دیکھیے ”اعجاز القرآن الباقلانی ابوبکر محمد بن الطیب(تحقیق،السید احمد صفر) دارالمعارف مصر(بدون تاریخ) ص۷۲
۳۱وضاحت کے لیے دیکھیےجمرة البلاغہالمعلم عبدالحمید القراہیالدائرة الحمدیہ،اعظم گڑھ،الہند ۱۳۶۰ئھ ص۱۸۸
۳۲۔ ”جمرة البلاغہ“ پر دیکھیے؛ مولانا فراہی کے تنقیدی نظریاتجمرة البلاغہ کی روشنی میں پروفیسر محمد راشد ندویص۵۳۳۵۷۶(علامہ حمید الدین فراہی ؛حیات افکار) نیز دیکھیےمولانا فراہی اور شعریات مشرق،ڈاکٹر عبدالباریص۵۴۷۵۶۱(علامہ حمید الدین فراہی حیات وافکار)
۳۳۔ وضاحت کے لیے دیکھیےتدبر قرآنص۹۶۱۰۰
۳۴۔ ذبیح کون ہے حمید الدین فراہی(ترجمہ امین احسن اصلاحی) طبع اول دائرہ حمیدیہ مدرسةالاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ(بدول تاریخ)ص۱۱۸۵ ۳۵۔ وضاحت کے لیے دیکھیےتدبر قرآنص۱۰۳۱۱۲
۳۶۔ ایضاً ص۱۱۲۔ ۳۷۔ ایضاً ص۱۱۹

عبدالحئی عابد
Admin

Posts : 21
Join date : 11.11.2010
Location : سرگودھا،پاکستان

View user profile http://islamiat.forumotion.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum